Thursday, March 15, 2012

کوئی توپ چیز نہیں ۔۔۔

بلاگ شروع کرنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ میری اُردو بہت اچھی ہے اور موٹے موٹے الفاظ میری سمجھ میں آتے ہیں یا میں کوئی بہت بڑی توپ ہوں ( چھوٹی توپ ضرور ہوں )۔

اُردو فورمز پر کسی زمانے میں بہت فعال رہا ہوں۔(بہت فعال سے مُراد ”بہت فعال” ہی ہے )

دن رات نام (یوزر نیم) یہ سوچ کر ہرگز نہیں رکھا گیا تھا کہ دن رات صرف نیٹ کی ہی زینت بن کے بیٹھا رہوں، بلکہ اِس کے پیچھے مقصد کوئی بھی نہیں تھا۔ ہماری ایک کزن صبح شام کے نام سے کسی زمانے میں لکھا کرتی تھیں اُن کی دیکھا دیکھی اور ملتا جلتا نام ”دن رات” ہی ذہن میں آیا اور رکھ لیا۔ یہ اور بات کہ پھر میرا آنا نیٹ پر ایسا ہوا کہ ”دن رات” یہیں فورمز پر گزر جاتے۔

آپ سوچتے ہوں گے کہ کوئی کام وام نہیں تھا اِسے تو یہ بھی بتاتا چلوں کہ زمانہِ طالب علمی تھا اور پڑھائی سے انٹر کے بعد کوئی خاص محبت بھی نہیں تھی۔ خیر ۔۔۔۔ مجھے اِس بات کا طعنہ بھی فورمز پہ کافی ممبران مارتے تھے کہ یہ تو یہیں بیٹھا رہتا ہے، جاسوس ہے، سب پر نظر رکھتا ہے، اپنی پوسٹس بڑھانے کے چکروں میں رہتا ہے اور ناجانے کیا کیا۔ حیرت کی بات یہ کہ لوگ اِس بات پہ بھی حسد محسوس کرتے تھے کہ یہ پوسٹ زیادہ کرتا ہے۔

ایک فورم چھوڑا دوسرا فورم، دوسرا فورم چھوڑا تو تیسرا اور سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا۔ کچھ نئے شاعر جن کے اپنے فورم تھے وہ دعوت دیتے رہے اور میں شامل ہوتا رہا۔ اور پھر یہ سلسلہ کافی عرصہ تک بند رہا۔ مصروفیات بہت بڑھ گئیں اور اُردو لکھنے اور پڑھنے سےدلچسپی ختم ہونا شروع ہوگئی۔

میں نے اوپر ذکر کیا کہ میری اُردو نا تو اچھی ہے اور نا موٹے اور بھاری بھرکم الفاظ میری سمجھ میں آتے ہیں اور شاید ہی کبھی آئیں گے۔ بلاگز پر اکثر لکھاری بہت سُلجھی اور ہائی فائی اُردو لکھتے، پڑھتے اور سمجھتے ہیں۔

اِس بلاگ پر بہت سادہ اور آسان اُردو میں میری طرف سے لکھا جائے گا اور کبھی کبھار گفتگو کے درمیان ایسے الفاظ بھی شامل ہوں گے جو میں روزمرہ کی زندگی میں استعمال کرتا ہوں ( گالی گلوچ مطلب ہرگز نہیں، اُس سے میرا دور دور تک کوئی لنک نہیں)۔

قارئین سے التماس ہے کہ اگر کوئی مخلص مشورہ ہو تو ضرور دیں (ورنہ اپنے مشورے اپنے پاس ہی رکھیں :) )۔

Wednesday, March 14, 2012

اپنے کام سے کام

یہ بات میری سمجھ سے بالا ہے۔ ایک بندہ اگر کوئی کام کرتا ہے(کام سے مُراد اچھا یا بُرا نہیں، کوئی بھی ایسا کام جس سے کسی کو نا تو فائدہ کو اور نا نقصان) اور کرنے والے بھی اِس چیز سے واقف نا ہو کہ جو وہ کر رہا ہے کسی کو فائدہ پہنچا رہا ہے یا نقصان، بس وہ من موجی سا بندہ ہو اور کچھ کام کرے۔

مثلا:

میں اپنا موبائل ٹی وی ٹرالی کے پاس رکھتا ہوں۔

اب یہ ایک ایسا کام ہے جو کسی کو نا نقصان پہنچا رہا ہےاور نا فائدہ۔ بھلا ایک موبائل فون کیا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ خیر۔ کوئی جناب آئے اور اسے وہاں سے اُٹھا کر کہیں اور رکھ دے، ایسی جگہ جہاں (جس کا موبائل ہے) وہ تلاش کرنے پر مجبور ہو جائے کہ ابھی تو یہاں رکھا تھا کہاں چلا گیا۔ اور جب کسی بندے سے(جس نے موبائل وہاں سے اُٹھا کر کہیں اور رکھا ہو) پوچھا جائے کہ آپ نے میرا موبائل تو نہیں دیکھا؟ اور جواب ملے کہ میں نے وہاں سے اُٹھا کر کسی اور جگہ رکھ دیا ہے۔

پہلی بات تو یہ کہ موبائل کس کا تھا؟ (ظاہر ہے میرا)

دوسری بات یہ : آپ اُسے وہاں سے کیوں اُٹھا رہے ہیں ؟

تیسری بات یہ :  اگر آپ اُٹھا بھی رہے ہیں تو بتا کر اُٹھتے کہ میں اسے فلاں جگہ رکھ رہا ہوں۔

تو پہلے سوال کا جواب تو آپ کو معلوم ہو ہی گیا ہوگا۔ دوسری بات کا جواب اگر اِس طرح سے ملے کہ وہ موبائل وہاں پڑا مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا، یا ”اپنی چیزیں اپنے پاس رکھا کرو”۔ اور تیسری بات کہ اگر بتا کر اُٹھاتے تو اچھی بات ہوتی کہ بھائی آپ کا موبائل میں اُٹھا کر فلاں جگہ رکھ رہا ہوں۔ مینرز بھی تو یہی ہوتے ہیں۔

ب رہی اصل مُدے کی بات۔ بھائی آپ کو موبائل وہاں پڑا اچھا کیوں نہیں لگ رہا تھا؟ اور میں اپنی چیزوں کو اپنے پاس رکھا کروں ؟؟


بندہ یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ آیا اِسے موبائل سے تکلیف ہے یاں مجھ سے ؟


اب آپ ہی باتیں موبائل فون کہیں رکھا ہو تو آپ کیا کریں گے؟ ظاہر ہے اُسے وہیں رہنے دیں گے۔ جس بندے کا ہے وہ خود آ کر اُٹھا لے گا۔


جو بندہ بھی کوئی کام کرتا ہے وہ اس کا اپنا فعل اور اس کے اچھے بُرے کا مالک ہوتا ہے۔ خاممخواہ کی بحث لڑائی یا جھگڑا کرنے کا فائدہ ؟ دا پوائنٹ اِز کسی سے بُرا عمل کرو گے تو مخالف بھی اُس کے ساتھ بُرا عمل کرے گا، اچھی فعل کروگے تو اگلا بندہ بھی آپ کو اچھے فعل سے گریٹ کرے گا۔


خدارا کسی کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی نا کریں، اور اگر کریں تو پھر یہ توقع نا رکھیں کہ مخالف آپ کی بات کو سُنے ۔ آپ کسی انسان کو بُرا کام کرنے سے منع تو کر سکتے ہیں پر اُس کر زبردستی عمل نہیں کروا سکتے۔اور اچھا کام تو دُنیا میں بہت کام لوگ ہیں تو کرتے ہیں اور اگر کوئی اچھا کام کر رہا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی ضرور کریں۔اور اپنی رائے کا اظہار ضرور کیں پر اچھے لب و لہجے میں۔ بہتر یہی ہے کہ آپ اپنے کام سے کام رکھیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو درگزر کرتے ہوئے زندگی گزاریں.

Tuesday, March 13, 2012

ملباری

ملباری قوم پتا نہیں کیا کھاتی ہے جو ہر چیز میں کاروبار اور پیسہ ڈھونڈ لیتی ہے۔

چند مثلیں پیش کروں۔

کل ایک ملباری ہوٹل میں کھانا کھانے گیا۔ ہمیشہ کی طرح ویٹر نے وہی ایک مینو سامنے رکھا اور شروع ہوگیا۔” چکن چُکا، مٹن چُکا، مکن کری، مٹن کری، بیف فرائی، انڈہ فرائی، انڈہ بھُرجی، بریانی، سبزی دال”۔ اور میں نے ہمیشہ کی طرح کہا ”وہی”۔

”چپاتی کھائےگا کہ پروٹھا؟”۔ اور میں نے کہا ”پروٹھا”۔

چند لمحوں واپس آیا تو بولا ” باروچی نہیں ہے۔ باہر گیا ہے۔ کچھ اور مانگتا”۔ میں نے اور تو کچھ کھانا نہیں تھا۔ ایک چیز تو وہاں اچھی ملتی تھی وہ ہی نہیں تھی۔ تو میں نے کہا ” چلو چکن چُکا لے آؤ”۔

وہ ابھی جانے والا تھا تو میرے کولیگ نے کہا ”میں نے تو وہی کھانا ہے جو پہلے آرڈر کیا تھا۔ جب باروچی آئے گا تو آ جائیں گے”۔ میں نے بھی حامی بھری۔ ملباری کو یہ محسوس ہوا کہ گاہک نکلنے والے ہیں(حالانکہ ایسا ارادہ نہیں تھا) اور واپس نہیں آئیں گے اور پیسے کہیں اور نکل جائیں گے۔ فورا بولا ” بیٹھو میں بنا کر لاتا ہے”۔

ہم اُس کو جاتے دیکھ رہے تھے اور ہنس بھی رہے تھے کہ ملباری نے جانے نہیں دیا۔ پانچ سات منٹ بعد آیا اور وہی آرڈر جو پہلے دیا تھا لے کر آیا۔(حالانکہ باورچی موجود نہیں تھا)۔ سیانہ کہیں کا۔ خیر ہم نے کھانا شروع کیا۔ جب سے یہاں آیا ہوں ہمیشہ یہ تجسس رہا ہے کہ یہ ملباری آپس میں کیا باتیں کرتے ہیں اور میں اپنے ایک ملباری کولیگ سے تھوڑے بہت ملباری الفاظ سیکھ بھی رہا ہوں۔ خیر کھانا ختم ہوا میں نے حساب لگایا کہ کتنے پیسے بنے ہوں گے۔

” اُن، رنڈ، مُون، ناڑ، انج، آڑ، ییڑ ۔۔۔۔ ” میں بڑبڑا رہا ہوں اور ویٹر کہیں سُن رہا تھا تو ہنسنا شروع ہوگیا۔ کہ میری زبان بولنے کی کوشش کر رہا ہے۔ میں نے شروع میں بتایا نا کہ ملباری پیسے نہیں جانے دیتے کہیں اور اگر کہیں سے سمجھتے ہیں کہ کمائی کی جا سکتی ہے تو ضرور کرتے ہیں۔

ویٹر بولا: ” تم دونوں کو ملباری سکھائے گا ہم”۔

میں نے کہا یہ تو اچھی بات ہے۔ بولا :” میرے کو تم دس دینار دینا مانگتا میں تم کو اچھے سے سیکھائے گا”۔

او تیری خیر۔

ہم ایک دوسرے کا منہ دیکھنا شروع، اور ہنس ہنس کے بُرا حال۔ کر دی اس نے پھر ٹپیکل ملباریوں والی بات۔ میں نے کہا بھائی تو پیسے لے کہ سیکھائے گا، ہم سیکھے گا ہی نہیں۔ ویسے سیکھانی ہے تو بول۔ نہیں مانا۔ اور دانت نکال کے کہنے لگا۔ ” کیا صاب دس دینار ہی تو ہے”۔

ہم نے کاؤنٹر ہر پیسے دیئے اور باہر نکل آئے اور اُس کی بات کرتے رہے کافی دیر کے ملباری پیسہ نہ جانے دیتے ہیں اور کمانے کے اِن کے پاس بہت طریقے ہیں۔ اور آخر میں بتاتا چلوں۔

ہم نے ”انڈہ بھرجی” کا آرڈر دیا تھا۔

Monday, March 12, 2012

مالٹا بےچارہ۔۔۔

کچھ لوگ بہت عجیب و غریب طبعیت کے مالک ہوتے ہیں۔ وہمی اتنے کے چھوٹی چھوٹی بات کو دل و دماغ پر سوار کر لیتے ہیں۔ ان کے ساتھ گزارا کرنا بہت مشکل ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ اس بندے کو کوئی تمغہ دیا جانا چاہئے۔ آج کل کچھ ایسا میرے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ ایک ایسے شخص کے ساتھ وقت گزر رہا ہے جو انتہائی وہمی ہے۔


سارا دن گھر میں پلان بنایا جائے گا کہ آج بازار سے کیا کیا لایا جانا ہے۔ پوری لیسٹ تیار کی جائے گی۔ فُل تیار ہو کر ( جیسے رشتہ لینے جا رہا ہو) کلون لگا کر (جیسے کبھی نہایا نہ ہو) نکلے گا اور پھر جس کام کے لیے جانا تھا وہاں نہیں جائے گا۔ رستے میں کوئی فروٹ والا ملا اُس سے دام پوچھ لیا۔ پانچ دس منٹ صرف اسی میں لگا دیے کہ مالٹا پہلے تم اتنے پیسے میں چار درجن دیتے تھے آج تین درجن کیوں؟ اور پھر یہ نہیں کہ ایک ریڑی سے پوچھیں۔ مارکیٹ جاتے جتنے فروٹ والے ملیں اُن سے مالٹے کے دام پوچھے جائیں گے۔ مالٹا بےچارہ بھی سوچتا ہوگا کہ یہ کون مجھے خریدنا چاہ رہا ہے۔اور دعا کرتا ہوگا کہ خدارا جھوٹ ہی ہو جائے کہ یہ مجھے آج خریدے۔مارکیٹ پہنچتے پہنچتے اتنے بندوں سے دام پوچھ لیں گے کہ آخر میں فیصلہ ہوگا کہ فروٹ مارکیٹ بھی تو وہیں پاس میں ہی ہے۔ سودا سلف لے کر واپسی پر وہاں سے ہوتے چلیں گے۔


مارکیٹ پہنچنے پر سب سے پہلے جوس لیں گے کہ گھر سے یہان پہچنتے بہت پیاس لگ رہی ہے۔ پھر لیسٹ نکالی جائے گی اور مختلف سیکشنز کی طرف اپنی کارٹ کو لے کر گھومنے نکل جائیں گے۔ وہ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ورلڈ ٹور پر آئے ہیں۔ جو کام ایک گھنٹے میں کیا جا سکتا ہے وہ چھ گھنٹے میں بھی مکمل نہیں ہوگا۔ایک ایک چیز کو چیک کریں گے۔ ایکسپائیر تو نہیں ہوگئی۔ ابھی کتنے دن باقی ہیں، یہ اچھا برینڈ نہیں ہے۔ اوہو اس برینڈ کی قیمت تو بہت زیادہ ہے۔ ابھی دو دن پہلے تو اتنی تھی۔ چلو کوئی اور دیکھ لیتے ہیں۔ اور وہاں موجود ایسی چیز لیں گے جو نا تو اِن ہوتی ہے اور شاید مارکیٹ میں سب سے ”تھکڑ” بھی ۔ لیسٹ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔(نام لینے دیں تو نا)۔


لیسٹ میں لکھی کافی چیزیں پین سے کاٹ دی جاتی ہیں کہ اُن کی قیمت یا کوالٹی اُن کے معیار کے مطابق نہیں اُترتی۔ کافی سے مراد تقریبا ساری ہی ہوتا ہے کیونکہ موصوف کو وہم ہو جائے کہ یہ چیر صحیح نہیں تو پھر وہ صحیح بھی ہو تو خراب ہوجاتی ہے۔ اللہ اللہ کر کے مارکیٹ سے شاپنگ پانچ،چھ گھنٹے میں ختم ہوجاتی ہے۔ پھر رُخ ہوتا ہے فروٹ مارکیٹ کا۔


مالٹا بےچارہ۔ بہت دکھ ہوتا ہے جب اس بےچارے کی سنی نہیں جاتی۔ فروٹ مارکیٹ میں داخل ہوتے ہی سبزی اور فروٹ کے دام پوچھے جاتے ہیں۔ یہ کتنے کا ہے وہ کتنی کی ہے، اور پھر وہی بحث شروع۔ مالٹے کے دام پوچھے تو ریڑی والے کے بتائے دام سے زیادہ۔ اس بےچارے کو وہاں سنا دیتے ہیں کہ ہمارے محلے میں تو اتنے کے دے رہا تھا، یہ سوچ کر یہاں آئے تھے کہ سستی اور اچھی چیز مل جائے گی پر لگتا ہے اُسی سے جا کر خریدنے پڑیں گے۔مزا تب آتا ہے جب دکاندار کہتا ہے بھائی دماغ خراب نہ کر آگے چلتا ہو۔ اتنا ہی سیانہ تھا تو وہیں سے خرید لیتا یہاں کیا ”آم لینے آیا ہے”۔ پھر جناب کا منہ ایسا بنتا ہے کہ بَڑ بَڑ شروع۔ خیر فروٹ مارکیٹ میں کوئی ایسا بندہ نہیں جو فروٹ ان کی قیمت اور معیار کے مطابق دے۔ ہاتھ میں سودا پکڑے ساری فروت مارکیٹ گھوم کر جب تھک جائیں گے تو کہیں گے۔” مالٹے بلڈنگ کے نیچھے کھڑے ریڑی والے سے ہی لیں گے۔ روز کے گاہک ہیں اس کے، کچھ دید لحاظ تو کرتا ہے نا”۔دل تو کرتا ہے کہ وہاں موجود سب فروٹ فروشوں سے اس کی پٹائی لگواؤں۔


جب تک گھر پہچتے ہیں راستے میں کسی بھی ایسی دکان میں گھس جائیں گے اور بلاوجہ کوئی بھی چیز اٹھا کر اس کے دام ضرور چیک کریں گے۔ لینا شینا کچھ نہیں ہوگا بس ایک وہم جو کہ پورا نہیں ہو رہا تھا پورا کیا جاتا ہے۔ بلڈنگ کے نیچے کھڑے بُندو سے مالٹے لیں گے اور اس بار کوئی بارگیننگ نہیں کریں گے۔ بس اتنا کہیں گے ”یار ہم تو تمھارے پُرانے گاہک ہیں” وہ بےچارہ ایک نظر دیکھتا ہے اور انہیں وہاں سے بھگانے کے لیے دو مالٹے زیادہ ڈال دیتا ہے۔ یہ اسی میں خوش ہیں کہ مارکیٹ سے دو مالٹے زیادہ لے کر آ رہا ہوں۔ میں ہر بار یہی سوچتا ہوں کہ اس بار ان موصوف کے ساتھ مارکیٹ کا رُخ نہیں کرنا پر ہر بار کوئی نا کوئی بہانا بنا کر ساتھ لے کر جائیں گے۔ اور یہ سب لکھنے کا مقصد یہی تھی کہ بائی فیس تو شاید میں اپنے غصے کا اظہار نہ کر سکوں پر اگر وہ اس کو پڑھیں تو کچھ تو شرم محسوس کریں۔ پر مجھے پتا ہے ایسا ہونے والا نہیں۔ ابھی ایسی بہت سی وہمی باتیں ہیں جو آپ سے کے ساتھ شئیر کرتا باقی ہیں۔ اللہ مجھے صحت اور ہمت دے۔ آمین۔

Wednesday, March 7, 2012

جنگل میں آ گیا

اب کبھی وہاں سے گزر ہو تو اُسے ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی جنگل میں آ گیا ہے۔ سنسان۔ کوئی چوں چاں تک نہیں۔ مزے کی بات اُس جنگل میں گیدڑ بہت تھے۔ اور ان کا سردار بندر اور وزیر لومڑی۔ بہت چالاک شاطر مکار۔کب کیا کریں گے کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔ اُسے بہت ہوشیار رہنا پڑتا تھا۔ لومڑی یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ اس کے منصوبوں سے کوئی واقف نہیں ہوتا۔ اور اب بھی شاید وہ یہی سمجھی بیٹھی ہے پر اسے کیا معلوم کہ اب بھی اس پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ زخمی شیر بہت خطرناک ہوجاتا ہے۔ اور وہ بھی جب زخم گہرا ہو۔

Tuesday, March 6, 2012

وہاں کیا کیا ہوا

ایٹ لِیسٹ وہ ڈبل فیسڈ نہیں تھا۔ وہاں بہت سے لوگ ”دونمبر” تھے۔ مالک بھی اور اس کے نوکر بھی۔ سیاسی بیان بہت چلتے تھے۔ اگر کہا جائے تو اُسے سب کی خبر تھی۔ یہ بھی کہ وہ اُسکے ساتھ کیا کر سکتے ہیں۔ کوئی اتنی بڑی ڈیل بھی نہیں تھی۔ کون کب آتا، کیا کرتا، کس سے بات کرتا، کس بارے بات کرتا، کہیں نا کہیں سے علم ہو ہی جاتا تھا۔ آخر وہ بھی”دن رات” تھا۔

ایک چیز جو اُس نے وہاں جانی اور اس کو پلے سے باندھ لی وہ یہ کہ مخالف جنس کی بات کو لوگ زیادہ غور سے سنتے اور اس پر عمل کرتے ۔ چاہے وہ جھوٹ ہی کیوں نا ہو۔ اور یہ بھی کہ وہاں کوئی بھروسے کے قابل نہیں۔ سب سیاسی گیم کھیل رہے تھے۔ کھیلنی بھی چاہیے۔ یوں کہہ لیں کہ کندھا اُس کا ہوتا اور بندوق کوئی اور چلاتا۔ وہ سمجھتا تھا کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔وہ اتنا ”کاکا” بھی نہیں تھا۔

اُسنے یہ بھی بتایا کہ وہاں زیادہ لڑکے فلرٹی تھے۔ فلرٹ تو اُس نے بھی کیا تھا۔ پر ایک کے ساتھ اور وہ بھی زیادہ دن نہیں۔ شاید اُسے جس رسپانس کی توقع تھی وہ ملی نہیں۔ (دل ٹوٹ گیا تھا بےچارے کا)۔ پر اُس نے کبھی شو نہیں کروایا۔ نا اُس نے ذکر کیا کسی سے اور نا خود کبھی نام لیا اُس کا۔ راستہ بدل لیتا تھا۔ سخت مزاج تو وہ شروع دن سے تھا۔اور سب کو اُس کی یہی بات بھی بُری لگتی تھی۔ اور یہ بھی کہ غصہ بہت کرتا ہے۔اُس کا کہنا تھا کہ غلط کام ہوتا دیکھ کوئی بھی بھڑک اٹھے گا۔ تو اِس میں غلط کیا تھا اگر وہ ایسا کرتا تھا۔ (جاری)

Monday, March 5, 2012

خوش آمدید !! خوش آمدید !!

خوش آمدید !! خوش آمدید !!

بہت عرصہ بعد ملے دن رات ۔۔ کیسے ہو ؟ کہاں ہوتے ہو ؟؟ کیسی گزر رہی ہے ؟؟ خوش ہو؟؟ بہت عرصہ سے تلاش تھی تمھاری ۔۔ مجھے بھی اور بہت سے تمھارے ”چاہنےوالوں” کو بھی ۔۔ (:
چھ سالوں میں کچھ سیکھا کہ نہیں؟ یاں اب بھی ویسے ہی ہو ؟ کیسے ہیں تمھارے دوست یار ؟ کوئی خیر خبر اُن کی؟ بہت خوشی ہو رہی ہے تمھیں دوبارہ ” ان ایکشن ” دیکھ کر (: ۔

تھمارا دوست۔
دن رات ۔۔
Powered by Blogger.

آمدو رفت

کچھ میرے بارے میں

بلاگ کا کھوجی