Monday, March 26, 2012
کوّے کی کائیں کائیں
ٹی وی چینلز پر سوائے بُری خبروں کہ کچھ نہیں رہا۔ کل کے پورے خبرنامے میں ایک اچھی خبر نہیں تھی کل کیا گیارہ ستمبر کے بعد سے کوئی اچھی خبر شاید ہی سنی ہو۔
یہ نیوز کاسٹر صبح ضرور اپنے پیر و مرشد ”کوے” کو حاضری دے کر آتے ہونگے اور وعدہ کرتے ہونگے کہ آج سب سے زیادہ ”کائیں کائیں” میں کرکے آؤں گا۔ اور ٹی وہ چینلز بھی سب کو کائیں کائیں کرنے کا پورا موقع فراہم کرتے ہیں۔اور خبرنامہ خبرنامے سے زیادہ قتلنامہ لگتا ہے۔
”جی سب سے پہلے آپ کو یہ خبر فلاں نیوز چینل پہنچا رہا ہے”۔
” جی بٹ کیا دیکھ رہے ہیں آپ؟؟ کتنے لوگ مرے، کیا یہ خودکش حملہ تھا؟ کس گروہ نے ذمہ داری قبول کی ہے؟؟”۔
” آپ کو ایک بار پھر بتاتے چلیں، فلاں جگہ پر فلاں نے فلاں کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا ہے”۔
ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ فلاں سیاسی جماعت کے کارکن پر حملہ ہوا ہے”۔
یہ خبر سب سے پہلے ۔۔۔۔۔۔ وہ خبر سب سے پہلے ۔۔۔
چینل چینج کرو تو پچھلے چینلز سے بڑے کوّے کائیں کائیں کرتے نظر آتے ہیں۔ اور مجال ہے کہ ایک بھی خبر پوری تصدیق کرنے کے بعد نشر کی گئی ہو۔ گلا کسی خبر کا ہوتا ہے اور دھڑ کسی خبر کا۔ اور مرچ مصالحے ڈال کر یہ نیوزکاسٹرز پیش کر دیتے ہیں۔
اور کبھی کبھار تو ایسی خبریں بھی نشر کی جاتی ہیں کہ بندہ کہنے پر مجبور ہوتا ہے کہ ”یہ خبر تھی !!”۔
”فلاں اداکارہ آج اپنی اٹھارویں سالگرہ منا رہی ہیں”۔
تو بھائی منانے دو۔ہم بھی منایا کرتے تھے، ہماری خبر تو کبھی نہیں دی۔
”فلاں اداکارہ نے ہرن کے بچے گود لے لیے”۔
اچھا! ہیںںںںںںںںں ۔۔۔ انسانوں کے مر گئے کیا؟؟
”فلاں سیاستدان کو استثناء حاصل ہے”۔
کیوں بھئی؟؟ پھوپھی کا لڑکا ہے ؟؟ جو اُسے حاصل ہے، باقیوں کو نہیں۔ اور اگر حاصل ہے بھی تو مائی فُٹ۔
”فلاں سیاستدان بیرونی ملک دورے پر چلے گئے، وہاں سے وہ وہاں اورپھر وہاں بھی جائیں گے”۔
اچھا !! خود عیاشی، ہمیں تو ویزہ تک نہیں۔ اور اگر وہ باہر جا بھی رہے ہیں تو کون سا آپ کے لیے کچھ کر کر آئیں گے؟
سمجھ میں نہیں آتا کہ فلاں کی شادی، منگنی، ولیمہ، بیرونی ملک دوروں سے عوام کو کیا جو یہ خبر نشر کی جاتی ہے؟؟ جس کی بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی ، تم لوگ کیوں اُس کی خبر بار بار نشر کرکے اُن کے قرب کو اور بڑھاتے ہو؟
”اس کو اب تب انصاف نہیں ملا۔ کیا انصاف ملے گا؟”۔آپ خود بتائیں کیا ہمارے ملک میں انصاف مل سکتا ہے ؟؟ پہلی بات تو یہ کہ انصاف وہاں ہو جہاں کوئی قانون ہو۔ او بھائی!! ہمارے ملک میں کہاں ہے قانون؟؟ کہیں نظر آیا کسی کو ؟؟
یہاں بیرونِ ملک رہنے والے لوگ ہمیشہ یہی بات کرتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان کا جانے کیا بنے گا۔ خبرنامہ تو بہت گرم تھا آج۔
کب نہیں ہوتا گرم ؟؟
ہر خبر پر نظر۔ اور واقعی سب پر۔ حتی کہ کون کب باتھ روم آتا جاتا ہے۔ جیو تو ایسے۔ واقعی ایسے ہی جیو، مر کے مار کے۔
صبح ہوتی ہے، شام ہوتی ہے، کائیں کائیں ختم نہیں ہوتی۔
گُلابوں والی گلی ۔۔۔
گُلابوں والی گلی ۔۔۔
اس وقت کی بات ہے جب لڑکیاں آج کے زمانے سے زیادہ لڑکیاں ہوتی تھیں۔ شعبہِ نفسیات پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ نیلم کاغذ پر کچھ لکھ رہی تھی، اچانک احمد بشیر اس کے پاس آیا اور کہا " یہ بعد میں لکھ لینا پہلے ذرا شادی کر لو " اور حیران دیکھتی رہی۔ احمد بشیر کو حیران کرنے کی بُری عادت ہے، یہاں تک کہ لوگ نیلم، سنبل، بشرٰی انصاری اور اسماء وقاص کو اس کی بیٹیاں سمجھتے رہے۔ چاروں ادب و ثقافت میں آئیں تو بیٹا نِکلیں۔
نیلم احمد بشیر کے گھر کا ماحول ایسا تھا کہ وہ گھر میں نہیں ، لائبریری میں پیدا ہوئی ہے۔ وہ سب بہنوں سے بڑی تھی اور اب تک بڑی ہے۔ بچپن میں اس سے چھوٹی سی غلطی ہو جاتی تو احمد بشیر کہتا " تمھاری یہ جرات ! چھوٹی سی غلطی تو آج تک ہمارے خاندان میں کسی نے کی نہیں۔ " صبح اٹھ کر ناشتہ تیار کر کے ماں کہتی کہ اب آپ اٹھ جائیں، میں نے آپ کے دانت صاف کر دیئے ہیں۔ شکل ایسی کہ منٹو کو پڑھ رہی ہو تو لگتا ہے، بہشتی زیور پڑھ رہی ہے۔ ویسے وہ اتنی معصوم نہیں جتنی شکل سے لگتی ہے، اس سے زیادہ ہے۔ وہ تو اپنے ہاتھ سے اُبالے پانی کو بھی دوسروں سے زیادہ گرم سمجھتی ہے۔ بات ایک کان سے سُن کر دوسرے سے نہیں نکالتی، منہ سے نکالتی ہے۔ بولنے کا اس قدر شوق ہے کہ اس کی بیشتر کہانیاں واحد متکّلم میں ہوتی ہیں۔ سوچتی انگریزی میں، بولتی پنجابی اور لکھتی اُردو میں ہے۔ لیکن سمجھتی کسی زُبان میں نہیں۔
اتنی نرم دل کہ ٹی وی ڈرامے میں کسی جاننے والے کو بیمار دیکھ لے تو اس کے گھر عیادت کرنے چلی جائے گی اور اگر کوئی سچ مچ بیمار ہو جائے تو اس قدر پریشان ہو جائے گی کہ اس کا چہرہ دیکھ کر بیمار کو اپنے بچنے کی کوئی اُمید نہیں رہے گی۔ یاداشت بہت بُری ہے۔ آپ سوچیں گے، کیا بات بھول جاتی ہے۔ جی نہیں ! ہر بات یاد رکھتی ہے۔ دوسروں کے دُکھ سُکھ میں اس قدر شامل ہوتی ہے کہ موچ کسی کے پاؤں میں آتی ہے اور چلا اس سے نہیں جاتا۔
مشہور گلوکارہ بننے کے لئے جو کچھ چاہئے، اس کے پاس ہے۔ گا بھی لیتی ہے پینٹینگ بھی کرتی ہے۔ ویسے تو ہر خاتون بُنیادی طور پر پینٹر ہوتی ہے لیکن " ف " کہتا ہے کہ یہ ضروری بھی نہیں، کچھ خواتیں میک اپ نہیں بھی کرتیں۔ اداکاری کا بھی شوق ہے۔ بشرٰی انصاری اور اسماء وقاص نے ت یہ شوق پورا کرنے کہ لئے ٹی وی ڈراموں میں کام کیا اور اس نے شادی کرلی۔ اس لحاظ سے وہ اپنی ذات میں انجمن ہے۔ مگر جنھوں نے اسے دیکھا ہے اور " انجمن " کو بھی دیکھا ہے، وہ نہیں مانتے۔
صبح گھر سے نکلتے وقت پہلے گاڑی تک آئے گی۔ اُسے ہی پتہ ہوتا ہے کہ وہ چابیاں تلاش کر رہی ہے۔ محلّے والے سمجھتے ہیں، جوگنگ کر رہی ہے۔ کہتے ہیں جس دن نوکرانی پر غصّہ آئے تو اسے کچھ کہنے کے بجائے گھر کا سارا کام خود کرنے لگے گی۔ اس حساب سے تو ہر وقت غصّے میں رہتی ہے۔کہتی ہے میں نے ایک دن نوکرانی کو کہہ دینا ہے " میرے سے اب اتنا کام نہیں ہوتا تم کوئی اور مالکن رکھ لو۔ " مالی ہر مہینے والد کی وفات کا بہانا کر کے ایڈوانس اور چُٹھی لے جاتا ہے اور یہ ہر ماہ سخت دل کرکے فیصلہ کرتی ہے کہ اللّہ کرے اب اس کا والد فوت نہ ہو۔ اگر ہو گیا تو ایڈوانس اور چھٹی نہیں دونگی۔
اس کے گھر میں ہر قسم کا ساز و سامان ہے۔ میں نے اکثر سنا ہے، والدین نے بیٹی کو جہیز میں بڑا ساز و سامان دیا تاکہ اسے نیا گھر چلانے میں آسانی ہو۔ سامان کی تو سمجھ آ جاتی ہے، ساز کیوں دیتے ہیں۔ اس کا پتا نہیں۔ بہرحال اس کے پاس بڑی انٹیک چیزیں ہیں جو اس نے اس وقت خریدیں جب وہ نئی تھیں۔
پندرہ برس امریکہ اس گھر میں رہی، جہاں اس قدر سردی ہوتی کہ کار اور گفتگو اسٹارٹ کرنے کی کوشش میں گھنٹوں لگ جاتے، تب کہیں جا کر کار اسٹارٹ ہوتی۔ امریکی معاشرہ تو وہ ہے جہان ایک شادی کی تقریب میں ایک نئی آنے والی مہمان سے پوچھا کہ آپ دُلھے کی کون ہیں? تو اس نے جواب دیا کہ میں دُلھے کی بہن ہوں۔ تو پہلی عورت نے کہا " آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی میں دُلھے کی والدہ ہوں۔ " پندرہ سال ااس معاشرے میں رہنے کے بعد اس کی یہ حالت ہو گئی کہ دن میں دو بار بھی ملے تو یوں ملے گی جیسے پندرہ سال بعد مل رہی ہو۔
کہتی ہے مجھے بچپن ہی سے ادب سے لگاؤ تھا اس لئے جب سائنس ٹیچر نے کہا " مادہ پھیلتا ہے " تو اس نے فورًا تذکیر اور تانیثکی غلطی نکال کر کہا " مادہ پھیلتی ہے۔ " یہی نہیں وہ تو مادہ پرست بھی شادی شدہ کو سمجھتی ہے۔ نیلم کی عمر کے معاملے میں ان سے بہت کم عمر ہے جو اس سے زیادہ عمر کی ہیں اور ان سے تھوڑی سی بڑی ہے جو اس سے بہت کم عمر ہیں۔
دس سال کا بچّہ بھی اس سے گھنٹہ گفتگو کر لے تو وہ خود کو چالیس سال اور اُسے دس سال کا سمجھنے لگے گا۔ غلطی کرنے کے باوجود اسے پتا نہیں چلتا کہ اس نے غلطی کی ہے اسے تو شادی کے کئی سال بعد پتا چلا کہ شادی شدہ ہے۔
نیلم پندرہ سال امریکہ میں نامکمل کاغذ پکڑے حیران کھڑی دیکھتی رہی۔ بہر حال ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اُس نے اِس دوران کچھ نہیں کیا، ماشاءاللّہ تین بچّوں کی ماں ہے۔ گزشتہ دو سال میں اس نے پندرہ سال پہلے کا خالی کاغذ رنگوں سے بھرا تو اس کا نام " گلابوں والی گلی " رکھا۔ کہتی ہے میں نے علامتی افسانے لکھے ہیں، غلط کہتی ہے۔ ایک بار امتحان میں ممتحن نے " ف " سے پوچھا کہ انور سجاد کے اس علامتی افسانے کا مطلب کیا ہے؟؟ تو " ف " نے کہا " سر اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ مجھے فیل کرنا چاہتے ہیں۔ " میں نے سنا ہے " گلابوں والی گلی " بڑی ننگی کتاب ہے۔ جب نیلم نے یہ کتاب مجھے دی تو واقعی ننگی تھی یعنی بغیر ٹائیٹل کور کے البتہ اس کو پڑھ کر میں خود کو ننگا محسوس کرنے لگا۔ مجھے لگتا ہے اب نیلم جسے لوگ احمد بشیر کے حوالے سے جانتے ہیں، ایک وقت آئے گا کہ احمد بشیر کو لوگ نیلم کے حوالے سے جانیں گے۔
ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی کتاب " افرتفریح " سے اقتباس ۔۔۔
Sunday, March 25, 2012
کپاس کا پھول
Thursday, March 22, 2012
بچپن کی کچھ یادیں ۔۔۔
والدہ بازار شاپنگ کرنے گئی تھیں اور ہم تین (میں، چھوٹی بہن اور چھوٹا بھائی جو اُس وقت نو،چھ اور پانچ سال کے ہونگے)۔ کمرے میں قالین بچھا تھا اور ہم تینوں کھیل رہے تھے۔ اچانک پِلو فائٹنگ شروع ہوگئی۔ ایک دوسرے کو تکیے سے مارتے ، بھاگتے اور ہنستے۔ تکیے کی ایک سائیڈ سے سلائی کھلنا شروع ہوئی اور اس میں سے فوم کا ٹکڑا باہر نظر آنا شروع ہوگیا۔ میں نے اُسے اندر کرنا چاہا۔ اندر کرنے کے دوران سلائی اور کُھل گئی اور فوم زیادہ باہر آگیا۔ میں نے بجائے اسے اندر کرنے کے اُس کے چھوٹے چھوٹے پیس کرکے اُن دونوں پہ پھینکنا شروع کئے تو انھوں نے دیکھا دیکھی اُسی تکیے سے یہ کام کرنا شروع کر دیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے سارے کمرے میں فوم کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پھیل گئے۔ :)
ہماری ایک عادت تھی کہ غلط کام کرنے کے بعد سو جایا کرتے تھے کہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ کس نے کیا ہے :)۔ خیر امی واپس آئیں۔ کمرہ دیکھا اور پھر ہمیں وہاں سویا ہوا پایا۔ ہم تینوں کو اُٹھایا اور پوچھا یہ کس نے کیا ہے؟؟ ہم سے چُپ ۔۔ پھر چھوٹا بولا ” یہ بھائی نے کیا ہے” ۔۔ چھوٹے کے بولنے کی دیر تھی کہ بہن بولی ” جی امی یہ بھائی نے کیا ہے ” ۔۔ظاہر ہے کہ اب پیچھے میں ہی رہ گیا تھا تو ماننا پڑا کہ شروع میں نے کیا اور بعد میں یہ دونوں بھی شامل ہوئے۔ خیر کہاں سُنی جانی تھی۔ ایک ڈنڈا ہوا کرتا تھا امی کے پاس ۔۔۔ واہ ۔۔ کیا پٹائی ہوئی اُس سے اور اُس پہ ظلم یہ کہ قالین سے ٹکڑے نکالنا بہت مشکل تھا تو ہاتھوں سے ہم تینوں کو نکالنے کو کہا گیا ۔۔۔ ایک ڈنڈا پڑتا اور صفائی ہوتی ۔۔کتنے دن تک ہم تھوڑا تھوڑا کرکے قالین صاف کرتے اور جب تک صاف نا ہوا امی سے ڈانٹ پڑتی رہی۔
اِسی طرح ایک بار امی انڈوں کی ٹرے لے کر آئیں فریج میں رکھی اور خود سامنے والی آنٹی کے گھر چلی گئیں۔ ابوجی شام میں آیا کرتے تھے اور ہم تینوں گھر پہ موجود تھے۔ انہی دنوں ہمارے واشروم کا فلش سسٹم بھی خراب ہوا تھا اور پلمبر نے اُسے اتار کر واشروم سے باہر رکھا ہوا تھا۔ چھوٹی باہر گئی فریج کھولی انڈے دیکھے تو شرارت سوجھی کہ ہنڈیا بناتے ہیں۔ فلیش ٹینکی میں پانی بھرا اور ایک ایک کرکے تینوں نے انڈے اس ٹینکی میں ڈالنا شروع کئے۔(توڑ کر چھلکوں سمیت)۔۔۔۔ ٹرے کو ہم نے باہر ڈرم میں پھینکا اور ڈنڈے کو چمچ بنا کر ٹینکی میں پھیرتے رہے۔ حسبِ معمول یہ واردات کرنے کے بعد ہم تینوں سو گئے۔
امی آئیں اور انھوں نے ہمیں سویا ہوا پایا۔ ابھی رات کے لیے کھانا تیار نہیں تھا اور امی ، ابو کے آنے سے پہلے شام میں کھانا تیار کرتی تھیں۔ اُس دن ابو جلدی آگئے۔ خیر امی نے انڈے کوفتے بنانے کا پروگرام بنایا اور جب انڈوں کے لیے فریج کھولی تو انڈے غائب۔ سب جگہ تلاش کرنے کے باوجود نہ ملے تو ہمیں اُٹھا کہ انڈے کہاں ہیں اور ہم نے ہمیشہ کی طرح یہی کہا کہ معلوم نہیں۔ ہم تو سو رہے تھے۔ دل میں ڈر بھی تھا کہ اگر امی کو پتہ چل گیا تو خیر نہیں۔ ابو بازار سے کھانا لائے ، انڈوں کا معمہ حل نا ہوا۔ رات جب ابو واشروم جانے لگے تو ٹینکی کے پاس سے گزرتے وقت انہیں عجیب سی بُو آئی تو انھوں نے ٹینکی کا ڈھکن اُٹھا کر دیکھا تو پانی میں جھاگ ہی جھاگ اور انڈوں کے چھلکے تیر رہے ہیں۔ بس پھر کیا تھا ہم سونے کی تیاری کر رہے تھے اور ادھر ابو نے امی کو بتایا کہ انڈے یہاں ہیں۔ پھر کیا تھا سونے سے پہلے وہ دھلائی ہوئی کہ آج تک یاد ہے۔ :)
Wednesday, March 21, 2012
موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں
موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں
تب کہی جا کر رضا تھوڑا سکون پاتی ہے ماں
فکر میں بچوں کی کچھ اس طرح گُھل جاتی ہے ماں
نوجواں ہوتے ہوئے بوڑھی نظر آتی ہے ماں
روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھیے
چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں
ہڈیوں کا رس پلا کر اپنے دل کے چین کو
کتنی ہی راتوں میں خالی پیٹ سو جاتی ہے ماں
جانے کتنی برف سی راتوں میں ایسا بھی ہوا
بچہ تو چھاتی پے ہے گیلے میں سو جاتی ہے ماں
جب کھلونے کو مچلتا ہے کوئی غربت کا پھول
آنسوں کے ساز پر بچے کو بہلاتی ہے ماں
فکر کے شمشان میں آخر چتاؤں کی طرح
جیسے سوکھی لکڑیاں ، اس طرح جل جاتی ہے ماں
اپنے آنچل سے گلابی آنسوں کو پونچھ کر
دیر تک غربت پے اپنی اشک برساتی ہے ماں
سامنے بچوں کے خوش رہتی ہے ہر ایک حال میں
رات کیوں چھپ چھپ کے لیکن اشک برساتی ہے ماں
کب ضرورت ہو میری بچے کو ، اتنا سوچ کر
جاگتی رہتی ہیں آنکھیں اور سو جاتی ہے ماں
مانگتی ہی کچھ نہیں اپنے لیے اللہ سے
اپنے بچوں کے لیے دامن کو پھیلاتی ہے ماں
دے کے اک بیمار بچے کو دعائیں اور دوا
پینتی پے رکھ کے سر قدموں پے سو جاتی ہے ماں
گر جوان بیٹی ہو گھر میں کوئی رشتہ نا ہو
اک نئے احساس کی سولی پے چڑھ جاتی ہے ماں
ہر عبادت ہر محبت میں نیہا ہے اک غرض
بے غرض بے لوث ہر خدمات کو کر جاتی ہے ماں
زندگی بھر چنتی ہے خار ، راہ ذیست سے
جاتے جاتے نعمت فردوس دے جاتی ہے ماں
بازوں میں کھینچ کے آجائے گی جیسے کائنات
ایسے بچے کے لیے بانہوں کو پھیلاتی ہے ماں
زندگانی کے سفر میں گردشوں کی دھوپ میں
جب کوئی سایہ نہیں ملتا تو یاد آتی ہے ماں
پیار کہتے ہے کسے اور مامتا کیا چیز ہے
کوئی ان بچو سے پوچھے جن کی مر جاتی ہے ماں
صفحہ ہستی پے لکھتی ہے اصول زندگی
اس لیے اک مکتب اسلام کہلاتی ہے ماں
اس نے دنیا کو دیے معصوم رہبر اس لیے
عظمتوں میں ثانی قرآن کہلاتی ہے ماں
گھر سے جب پردیس جاتا ہے کوئی نور نظر
ہاتھ میں قرآن لے کر در پے آجاتی ہے ماں
دے کے بچے کو ضمانت میں اللہ پاک کی
پیچھے پیچھے سر جھکائے در تک جاتی ہے ماں
کانپتی آواز سے کہتی ہے بیٹا الوداع
سامنے جب تک رہے ہاتھوں کو لہراتی ہے ماں
جب پریشانی میں گھر جاتے ہیں ہم پردیس میں
آنسوں کو پونچھنے خوابوں میں آجاتی ہے ماں
دیر ہو جاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب ہمیں
ریت پر مچھلی ہو جیسے ایسے گھبراتی ہے ماں
مرتے دم بچہ نا آ پائے اگر پردیس سے
اپنی دونوں پتلیاں چوکھٹ پر رکھ جاتی ہے ماں
باب مر جانے پے پھر بیٹے کی خدمت کے لیے
بھیس بیٹی کا بدل کر گھر میں آجاتی ہے ماں
ہم بلاؤں میں کہیں گھرتے ہیں تو بے اختیار
خیر ہو بچے کی ، کہ کر در پے آجاتی ہے ماں
چاہے ہم خوشیوں میں ماں کو بھول جائیں دوستو !
جب مصیبت سر پے آتی ہے تو یاد آتی ہے ماں
دور ہو جاتی ہے ساری عمر کی اس دم تھکن
بیاہ کر بیٹے کو جب گھر میں بہو لاتی ہے ماں
چین لیتی ہے وہی اکثر سکون زندگی
پیار سے دلہن بناکر جس کو گھر لاتی ہے ماں
پھر لیتے ہیں نار جس وقت بیٹے اور بہو
اجنبی اپنے ہی گھر میں ہے بن جاتی ہے ماں
ہم نے یہ بھی تو نہیں سوچا الگ ہونے کے بعد
جب دیا ہی کچھ نہیں ہم نے تو کیا کھاتی ہے ماں
ضبط تو دیکھوں کہ اتنی بے رخی کے باوجود
بد دعا دیتی ہے ہرگز اور نا پچھتاتی ہے ماں
Tuesday, March 20, 2012
کھودا پہاڑ اور نکلے چوہے ۔۔۔
اب میرا سولہ سال بعد یہاں آنا ہوا ہے۔ اچھا بھی لگتا اور دوسری طرف دُکھ بھی ہوتا ہے۔ آج کا بحرین اور سولہ سال پہلے کے بحرین میں بہت فرق آگیا ہے۔ اچھا اِس لیے کہ بحرین والوں نے بڑی ترقی کر لی ہے، کُھلی کھلی سڑکیں، اونچی عمارتیں، صاف صفائی اور ایسے ہی دیگر معاملات۔۔ اور دُکھ اِس لیے کہ یہاں کی عوام اپنے حکمران سے خوش نہیں اور وہ آئے دن کچھ نا کچھ کرتی رہتی ہے جس سے یہاں رہنے والوں کو تکلیف اُٹھانا پڑتی ہے۔
آپ میں سے اکثر جو گلف میں رہتے ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ بحرین کی آبادی بارہ لاکھ سے کچھ اوپر ہے اور اس کا رقبہ 700 مربع کلومیڑ ہے۔ آبادی میں ساڑے پانچ لاکھ بحرین اور چھ لاکھ غیر ملکی ہیں۔ بحرین کی 71 فیصد آبادی مسلم اور باقی 21 فیصد دیگر مذاہب سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور اُس مسلم آبادی کا 70 فیصد شیعہ مسلم اور 30 فیصد سُنی مسلم آبادی پر مشتمل ہے۔ بادشاہ حمد بن عیسٰی آل خلیفہ ، ولی عہد شہزادہ سلمان بن حمد آل خلیفہ اور وزیراعظم خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ ہیں۔ خلیفہ فیملی 1797ء سے یہاں حکومت کر رہی ہے اور یہ سُنی حکمران ہیں۔ اِس سے پہلے یہاں ایرانی حکمرانوں کی حکومت رہی اور وہ سب شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔
آل خلیفہ فیملی دراصل کویت سے آئی تھی۔ 1802ء میں یہاں عمانی حکمران سے قبضہ کیا اور اپنے بارہ سالہ بیٹے کو بحرین کا امیر مقرر کیا۔1820ء میں آل خلیفہ قبیلے نے بحرین پر دوبارہ قبضہ کیا اور برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جو اُس وقت خلیج فارس میں غالب فوجی طاقت تھی۔1932ء میں یہاں تیل دریافت ہوا اور 1935ء میں برطانیہ کی رائل نیوی نے اپنا بحری اڈا ایران سے بحرین منتقل کیا۔ اور اِن دونوں میں تعلقات اور بہتر اور گہرے ہونے لگے۔
1957ء میں ایرانی پارلیمنٹ نے ایک بِل پاس کیا جس میں بحرین کو ایران کا چودواں صوبہ قرار دیا گیا، ایران کوشش کرتا رہا کہ یہاں ریفرنڈم کروایا جائے۔ ایران اور برطانیہ کی درخواست پر اقوام متحدہ نے بحرین میں ایک سروے کروایا جس میں علاقے کے سیاسی مستقبل کا تعین کریا جانا تھا۔ لوگوں کی ایک بھاری اکثریت نے ایک مکمل طور پر آزاد اور خودمختار ریاست کی حمایت کی۔
90 کی دہائی میں یہاں شیعہ سنی فساد شروع ہوئے اور ہماری واپس جانے کی وجہ بھی یہی بنی۔ سن 95ء میں یہ فساد عروج پر پہنچے جسے بعد میں قابو پالیا گیا۔ پاکستانی آبادی یہاں اسی نوے ہزار کے قریب ہے اور اِن کے علادہ انڈین آبادی دو لاکھ، بنگلہ دیشی ڈیڑھ لاکھ، فلپائنی تیس ہزار کے لگ بھگ ہیں۔
پاکستانی آبادی کا زیادہ حصہ بحرین پولیس میں شامل ہے اور یہی ایک وجہ ہے کہ یہاں کی شیعہ عوام پاکستانیوں کا پسند نہیں کرتی۔ یہ ان فساد کرنے والوں کو پکڑتے ہیں اور ان پر مقدمہ چلتا ہے اور پھر اُن کے گھر والے پاکستانیوں پر لعن تعن کرتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ ختم ہونے والا نہیں۔ پاکستانیوں کو بادشاہ کی کافی سپورٹ رہی ہے بلکہ بادشاہ حمد بن عیسٰی آل خلیفہ کے والد شیخ عیسٰی بن سلمان آل خلیفہ پاکستانیوں کو بہت پسند کرتے تھے۔ خیر یہ تو گزرے زمانے کی باتیں ہیں۔
فروری 2011ء کی بغاوت جو اُٹھی تو اُس نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا پر سعودی اور اماراتی افواج نے یہاں مداخلت کرکے اُس بغاوت کو ختم کیا۔
پہلے یہاں عرب پاکستانی آبادی کے ساتھ رہتے تھے اور ایک دوسرے سے اچھے تعلقات رکھتے تھے۔ پر اب ایک آنکھ دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ یہ پاکستانیوں سے ڈرتے بھی تھے کہ یہ سخت جان قوم ہے اور ان کی آپس میں کم ہی لڑائی ہوا کرتی تھی۔ پر فروری 2011ء کے بعد سے سب بدل گیا ہے۔ تب سے اب تک بہت سے پاکستانیوں پر حملہ کیا گیا ہے کئی تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور کئی ایسے ہیں جن کو اتنا مارا گیا ہے کہ وہ مستقل بستر سے جا لگے ہیں۔ بحرینی پولیس میں پاکستانیوں کو اب بھی شامل کیا جاتا ہے بلکہ ان کی تعداد پہلے سے زیادہ کر دی گئی ہے۔ نا اُن کو کوئی اسلحہ دیا گیا ہے اور نا ہی اُن کو مارنے کی اجازت ہے۔ میں تو اُنھیں مسکین پولیس کہتا ہوں کہ بےچارے ایک ڈنڈہ اور ایک شلیڈ کے ساتھ ان عربوں سے مقابلہ کرنے جاتے ہیں اور کبھی یہ دوڑ کر واپس آتے ہیں تو کبھی عربوں کو بھاگنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ چوہے بلی کا کھیل پچھلے ایک سال سے روزانہ بلاناغہ کھیلا جا رہا ہے۔ پولیس کی تنخواہوں میں اضافہ اور انھیں بحرینی نیشنیلٹی کا لالچ دیا جاتا ہے اور یہ بےچارے اس لالچ میں آجاتے ہیں۔
ایک پاکستانی سے میری بات ہوئی تو کہتا ہے اس میں سب سے بڑا قصور ہماری پاکستانی حکومت کا ہے۔ میں نے کہا وہ کیوں ؟؟ تو بولا یہ عربی ہم سے ڈرتے تھے، ہم سے لڑائی نہیں کرتے تھے اسی ڈر سے کہ یہ ماریں گے، پر اب یہ پاکستان کی صورتِ حال کو دیکھتے ہیں اور وہاں کے سیاسی حالات، آئے دن کے خودکش حملے، لوٹ مار، چوری، کرپشن ، روز روز کی بدلتی حکومت وغیرہ وغیرہ تو اِن کے دل سے وہ خوف ختم ہونا شروع ہوگیا کہ ہم تو اس قوم کو بہت بڑی توپ سمجھتے تھے اور یہ تو چوہے نکلے، ان کے اپنے گھر میں سکون نہیں تو یہاں ہمارا سکون کیوں برباد کر رہے ہیں۔ اور یہ خوف اب ختم ہوگیا ہے۔
آپ یہاں اکیلے شلوار قمیض پہن کر باہر نہیں جا سکتے ڈر ہوتا ہے کہ آپ کی پہچان ہوجائے گی اور کسی دن محلے کے آوارہ لڑکے آپ کو پکڑ کے ماریں گے۔ بہت سی پاکستانی فیملیز جو یہاں 20 یا 30 سال سے مقیم تھیں چھوڑ کر چلی گئی ہیں اور اِن میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ جو پاکستانی ان کے علاقوں میں رہتے تھے وہ سب چھوڑ کر کسی دوسری جگہ منتقل ہوگئے ہیں۔
فروری 2012ء میں حکومت کو بغاوت کا پھر خدشہ تھا تو اس بار پہلے سے سب تیاری کر رکھی تھی اور حکومت اس میں کامیاب بھی ہوئی، کوئی خون خرابہ نہیں ہوا اور سب ٹھیک ہی رہا۔ پر اب بھی ان کے چند مخصوص علاقے ہیں جہاں چھوٹی موٹی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں۔ پہلے صرف پاکستانیوں کو نشانہ بناتے تھے، اب کوئی بھی ایشیائی ہتھے چڑھ جائے تو ”پینجا” لگا دیتے ہیں۔ بظاہر سب اچھا لگتا ہے، اور ایسا ہی ہے۔ سب اچھا ہے۔ میں جہاں رہ رہا ہوں وہاں ایسا کچھ نہیں کوئی لڑائی نہیں کوئی جلوس نہیں امن اور شانتی ہے۔ حکومت کامیاب دکھائی دیتی ہے۔ اور ایشیائی آبادی بھی اس وجہ سے خوش ہے کہ شہروں میں سکون ہے۔ اب اپریل میں فارمولہ ون ریس ہونی ہے اور سب انٹرنیشل میڈیا یہاں آئے گا اور اُمید کی جا رہی ہے کہ یہ بغاوت اس وقت پھر سر اٹھائے گی۔
میرے مطابق یہاں کے لوگ غلط سوچ رہے ہیں، جیسا یہ ملک چلنا چایئے ویسا ہی چل رہا ہے۔ کرپشن نہیں لوٹ مار نہیں سب کام وقت پہ بلکہ وقت سے پہلے۔ خلیفہ آئے دن چھوٹی موٹی تقریبات کا انعقاد کرتا رہتا ہے، جس سے یہاں کے رہنے والوں کا دل لگا رہے، گھر خود حکومت بنا کر دیتی ہے، جو کام نہیں کرتا اس کے لیے وضیفہ ہے سرکاری نوکریاں ہیں، سُنی آبادی خوش ہے پر شیعہ آبادی جمہوریت مانگتی ہے۔ انھوں نے شاید پاکستان کی جمہوریت نہیں دیکھی :)۔ دیکھ لیں تو اچھا ہے۔
Sunday, March 18, 2012
بندے کے پُتر بنو ۔۔۔
میں آج کل جس بندے کے ساتھ فلیٹ شئیر کر رہا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ وہ یہ پڑھے اور پھر ہماری لڑائی ہو ، یاں وہ میرا سر پھاڑے یا میں اُس کا۔ فیصلہ ہو ہی جائے۔ اور اگر نہیں تو ”بندے کے پُتروں” کی طرح رہے۔
شئیرنگ روم ہو یا فلیٹ، اِس کے مسائل کیا ہوتے ہیں یہ یہاں آ کر معلوم ہو رہا ہے۔ اور وہ بھی تب جب آپ نہ فلیٹ چھوڑ سکتے ہو اور نہ روم کیونکہ کمپنی رہائش ایک بار ہی دیتی ہے۔ آپ کمپلین تو کر سکتے ہیں پر اُس پر سوائے بہانوں کے کچھ نہیں ملتا۔ آپ جتنی مرضی کوشش کر لو کہ کوئی بات نہ ہو پھر بھی ٹاکرا تو ہو کر ہی رہتا ہے۔
آپ میں سے بہت سے افراد بیرونِ ملک رہ رہے ہیں اور اکثریت اُن کی روم یا فلیٹ شئیر کرتی ہے۔ یہاں تو یہ حال بھی دیکھا ہے کہ ایک روم میں آٹھ آٹھ اور ” بنگالی گلی” میں تو روم میں دس دس افراد رہ رہے ہیں۔ میں تو پھر ایک فلیٹ شئیر کر رہا ہوں اور فلیٹ میں ہم دو لوگ ہی رہتے ہیں۔ میرا حال ایسا ہے تو اُن بےچاروں کا تو اللہ ہی حافظ۔
میرا فلیٹ پارٹنر میرا سینئر بھی ہے، عُمر میں بھی تو عہدے میں بھی۔ چلو سینئر ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔ کل کو ہم نے بھی ہونا ہے تو اس میں کیا ہے۔ موصوف پتا نہیں کس مٹی کے بنے ہیں یاں اُن کی اماں کیا کھلایا کرتی تھیں جو ایسا سپوت پیدا کیا۔ یاں پھر یہ میرے کوئی گناہ ہیں جن کی سزا مجھے مل رہی ہے۔بہت بار باتوں باتوں میں سمجھایا ( حالانکہ وہ بڑا ہے اور سمجھانا اُسے مجھے چایئے)، پر کوئی فائدہ نہیں۔ وہی کتے کی دُم اور ٹیڑھی کی ٹیڑھی۔
شروع شروع میں تو اچھے سے رہا کام وام بھی کر لیا کرتا تھا، پر اتنا ہڈحرام نکلے گا یہ اُمید نہیں تھی۔ ہمارے بڑے کہتے ہیں ” بڑوں کی عزت کرو تو چھوٹے بھی دیکھا دیکھی سیکھ جاتے ہیں عزت کرنا” اور بڑوں کو کہا کرتے تھے ”اپنی عزت خوش کرواو اچھے کام کرکے تاکہ چھوٹے تمھاری عزت کریں”۔ پر اِس بندے کو شاید یہ بات نہ تو کسی نے بتائی ہے اور اگر بتائی بھی ہوگی تو اُس نے ایک کان سے سُنی ہوگی اور ۔۔۔
آفس سے ہمیشہ لیٹ، پہلے تو مجھے کہا کرتا تھا یار دیر سے جایا کرو کون سا آگ بجانا ہوتی ہے ہم نے۔ دفتر سے آرڈر ہوئے کہ جلدی آیا کریں ، میں نے جلدی جانا شروع کیا تو موصوف کو اخلاقا اُٹھا بھی دیا کرتا تھا کہ ” ٹائم ہوگیا ہے، اُٹھ جائیں”۔ ایک بار، دو بار، تین بار، چار بار جتنی بار بھی آواز دی یہی جواب آیا ” اُٹھتا ہوں”۔ میں دفتر آیا، یہ اُسی روٹین پر۔ میں نے اُٹھانا چھوڑا تو وہ گلہ کہ اب اُٹھاتے نہیں ہو۔ باہر جانا ہے تو ”چلو یار باہر چلیں” اور جس کام سے چلیں گے وہ آپ ”مالٹا بےچارہ” میں پڑھ چلے ہونگے۔(اور اگر نہیں پڑھا تو کوئی بات نہیں، یہ پوسٹ بھی نہ پڑھیں)۔
ابھی جمعرات کی ہی بات لے لیں۔ بینک سے میں نے پیسے نکلوانے تھے، تبھی موصوف کو یاد آیا کہ اُس نے پیسے جمعہ کروانے ہیں۔ ساتھ چلتے ہیں۔میں نے دل میں سوچا یااللہ خیر۔پیسے جمع اور نکلوانے میں کتنی دیر لگتی ہوگی ؟؟ دس منٹ، پندہ ؟؟ اگر آپ کا یہ جواب ہے تو آپ غلط ہیں۔
آدھ گھنٹہ۔ اور وہ بھی جب باہر نکلے اور پانچ منٹ واک کرکے آگے آ چکے تو دوسرا کام یاد آیا ۔
” او یار گھر پیسے بھیجنے ہیں”۔
تو بھیج بھائی، میری ہاتھ بھجوانے ہیں کیا ؟؟
تم ایسا کرو تمھارے پاس پیسے ہیں نا ابھی تم وہ مجھے دے دو اور تھوڑے اور نکلوا لو میں نے تو اب جمع کروا دیئے ہیں (اس لیے جمع کروانے کہ بینک سٹیٹمنٹ اچھی بن جائے) تو کل لے لینا مجھ سے۔ ایک بار میں نے سوچا۔ پھر اچانک اُسے خیال آیا۔” نہیں یار رہنے دو، شام میں آکر نکلوا لیں گے”۔ (اچھااااااااااااااااااااااا) پھر دوسرے ہی لمحے نہیں یار ابھی بھجوا دیتے ہیں شام میں کہاں آنا ہوگا۔
پیسے نکلوانے یو بی ایل گئے تو خالم خالی۔ بس عملہ بیٹھا تھا، حیرت ہوئی کہ یہاں تو بڑا پُرسکون ماحول ہے۔ خیر عملہ پاکستانی تھا تو آپ کو جلدی فارغ تھوڑی نا کرنا تھا اُنھوں نے۔ آدھ گھنٹہ انھوں نے بھی لگا دیا۔ اب نئی بات شروع ” یار انہوں نے ریٹ کم لگایا ہے، واپسی پر ایچ بی ایل سے ریٹ پوچھ کر جاتے ہیں ”۔میں نے کہا ” یو گو، آئی وونٹ کم”۔ تو منہ بنا لیا اور یہ جا وہ جا۔ میں نے شکر کیا کہ جان چھوٹی۔
اُس بندے نے سارا دن فلیٹ پہنچ کر میری کسی بات کا جواب نا دیا اور مُنہ بنا کر کمرے میں بیٹھا رہا۔ او بھائی؟؟؟ مجھے سمجھ کیا رکھا ہے ؟؟ نوکر ؟؟ مجال ہے تو اُس نے کبھی فلیٹ کی صفائی کی ہو، فلیٹ کی چھوڑیں اپنے کمرے کی صفائی وہ تو کرنی چائیے نا۔ پر نہیں۔ کہتے ہیں ” یار کیا کرنی ہے صفائی کرکے”۔ اور بھائی صفائی نہیں کرنی تو گند بھی نہ ڈالا کرو۔ اور اگر ڈالتے ہو تو صاف بھی کر لیا کرو۔برتن سنک میں پڑے ہیں تو پڑے رہیں، شاید ہی کبھی دھوئے ہوں۔ کھانا خود بنانا نہیں آتا اور جن کبھی بنا لیں تو کبھی نمک کم تو کبھی مرچ تیز۔ میں تو کھاتا نہیں تھا کھانا پر مجبورا ایک نوالہ ضرور چیک کرواتا۔ جسے کھا کر عجیب سی کیفیت ہوتی۔ اور پھر اُسی کھانے کی جب تعریف کی جاتی کہ ”یارررررر۔۔ کیا زبردست کھانا بنایا ہے میں نے”۔ اچھا یہ زبردست تھا؟؟؟ زبیدہ آپا تک کوئی یہ بات پہنچا دے کہ اُن سے اچھا کھانا بھی کوئی بنا رہا ہے۔ اور پھر اگلے دن جتنا کھانا تھا سب کچرے میں۔ کیوں پھینک رہے ہیں ؟؟ ”یار ایک چیز روز روز نہیں کھائی جاتی”۔ اچھاااااااااااااااااااااااااااااااااااااا
تو بھائی پکاتے ہو تو کھایا تو کرو جب اتنی اچھی بنی ہے اور اللہ کے رزق کو ضائع تو نہ کیا کرو۔
مُنہ زبانی تو بہت بار کہہ چکا، اب ہاتھ زبانی بات ہوگی۔ اللہ مجھے صحت اور تندرستی عطا فرمائے۔آمین۔
آمدو رفت
کچھ میرے بارے میں
- عمر سیف
- منامہ, Bahrain
موضوعات
- Aside (1)
- آؤ مسکرائیں (3)
- افسانہ (2)
- دن رات (13)
- ذاتی پیغامات (20)
- شاعری (12)
- کہانی گھر (1)
- مزاح (3)